اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے۔ امام احمد رضا خان بریلوی

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

شاعر : امام احمد رضا خان بریلوی

کتاب : حدائق بخشش

نعتِ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم]

اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے

دلِ بے کس کا اِس آفت میں آقا تو ہی والی ہے


نہ ہو مایوس آتی ہے صدا گورِ غریباں سے

نبی امّت کا حامی ہے خدا بندوں کا والی ہے


اترتے چاند ڈھلتی چاندنی جو ہو سکے کر لے

اندھیرا پاکھ آتا ہے یہ دو دن کی اجالی ہے


ارے یہ بھیڑیوں کا بن ہے اور شام آ گئی سر پر

کہاں سویا مسافر ہائے کتنا لا اُبالی ہے


اندھیرا گھر اکیلی جان دم گھٹتا دل اُکتاتا

خدا کو یاد کر پیارے وہ ساعت آنے والی ہے


زمیں تپتی کٹیلی راہ بھاری بوجھ گھائل پاؤں

مصیبت جھیلنے والے تِرا اللہ والی ہے


نہ چونکا دن ہے ڈھلنے پر تِری منزل ہوئی کھوٹی

ارے او جانے والے نیند یہ کب کی نکالی ہے


رضؔا منزل تو جیسی ہے وہ اک میں کیا سبھی کو ہے

تم اس کو روتے ہو یہ تو کہو یاں ہاتھ خالی ہے



مزید دیکھیے[ترمیم]

اٹھا دو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نورِ باری حجاب میں ہے | اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے | گنہ گاروں کو ہاتف سے نویدِ خوش مآلی ہے

امام احمد رضا خان بریلوی | حدائق بخشش