استغاثہ

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search


استغاثہ سے مراد ایسی نعت مبارکہ ہے جس میں اپنے یا امت کے احوال کا ذکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جائے ۔

" بعض حضرات اس طرح کے استغاثے کو شرک سمجھتے ہیں ۔ اس لیے استغاثے کے ضمن یہ نکتہ پیش کر دینا ضروری ہے کہ شعرائ کرام حضور اکرم سے اپنی دعا کی قبولیت کے لیے شفاعت کے طالب ہوتے ہیں ۔ وہ حضور اکرم ﷺ سے براہ راست دعا نہیں کرتے ۔ امام محمد بن الجرزی رحمتہ اللہ علیہ کی تالیف "حصن ِ حصین" میں ایک دعا ہے کہ جو خود حضور اکرم ﷺ نے ایک نابینا شخص کو سکھائی تھی ۔ اُس دعا میں حضور اکرم ﷺ سے شفاعت طلبی کا آہنگ ہے ۔ نابینا شخص نے وہ دعا حضور علیہ السلام کے بتائے ہوئے طریقے سے کی تو اس کو فورا بینائی مل گئی تھی "[1]

دعا یہ ہے

" اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف سے تیرے نبی محمد ﷺ کے واسطے سے متوجہ ہوتا ہوں وہ نبی جو رحمت والے نبی ہیں ۔ اے محمد ﷺ میں آپ کا واسطہ دے کر اللہ کی طرف متوجہ ہوتا اپنی اس حاجت کے بارے میں تاکہ وہ پوری کر دی جائے ۔ اے اللہ پس محمد ﷺ کی شفاعت میرے حق میں قبول فرما [2]



استغاثے کی مثالیں[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

نعتیہ استغاثہ بحضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم ۔ پرویز ساحر

حواشی و حوالہ جات[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

  1. نعتیہ ادب کے تنقیدی زاویے ، ڈاکٹر عزیز احسن، نعت ریسرچ سنٹر ، کراچی، ص 240
  2. حصن حصین مع ترجمہ و شرح مولانا محمد عاشق الہی بلند شہری، دارلاشاعت ، کراچی ص 302